بنگلورو،7؍نومبر(ایس او نیوز) شیواجی نگر علاقہ میں پچھلے دنوں آر ایس ایس کارکن ردریش کے قتل سے ریاستی وزیر برائے شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ کو جوڑنے اور ان پر اس قتل میں ملوث ہونے کا گھناؤنا الزام لگانے والی بی جے پی رکن پارلیمان شوبھاکارند لاجے کے خلاف آج بنگلور ضلع کانگریس کمیٹی کی طرف سے شہر کے آنند راؤ سرکل کے گاندھی مجسمہ کے روبرو زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔شیواجی نگر حلقہ بھر کے ہزاروں کی تعداد میں پارٹی کارکنوں نے اس احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا اور نہ صرف اپنے حلقہ بلکہ پوری ریاست میں جناب روشن بیگ کی مقبولیت کا ایک مظاہرہ پیش کیا۔ جناب روشن بیگ کے خلاف نازیبا الزامات لگانے والی شوبھاکارند لاجے کا پتلا اس موقع پر علامتی طور پر نذر آتش کیا گیا۔ کے پی سی سی کے کارگذار صدر دنیش گنڈو راؤ ، رکن کونسل وی ایس اگرپا، ایچ ایم ریونا ،بائرتی سریش، نارائن سوامی ، کونسل کے سابق چیف وہپ آر وی وینکٹیش اور دیگر لیڈروں نے اس موقع پر خطاب کیا،اور جناب روشن بیگ کی شخصیت کے سیکولر پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے ساتھ شوبھا کارند لاجے اور بی جے پی کی طرف سے جناب روشن بیگ پر کیچڑ اچھالنے اور ریاست میں فرقہ وارانہ فضاکو مکدر کرنے کی کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
دنیش گنڈو راؤ:کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے کار گذار صدردنیش گنڈو راؤ نے اس موقع پر جناب روشن بیگ کو ریاست کا ایک قد آور سیاستدان قرار دیا اور کہاکہ ان کی مقبولیت صرف مسلمانوں میں ہی نہیں، بلکہ ریاست کے تمام طبقات میں یکساں طور پر ہے۔ شوبھا کارند لاجے نے سستی شہرت کیلئے جناب روشن بیگ پر جو گھناؤنا الزام لگایا ہے اس کیلئے انہیں 24 گھنٹوں کے اندر جناب روشن بیگ سے معافی مانگنی ہوگی یا پھر انہوں نے ردریش کے قتل کے معاملہ میں جناب روشن بیگ کے خلاف اپنے پاس ثبوت ہونے کا جو دعویٰ کیا ہے وہ 24؍گھنٹوں کے اندر پولیس کے حوالے کردیں ۔ انہوں نے وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور اور شہر کے پولیس کمشنر ایم ایس میگرک سے مطالبہ کیا کہ شوبھاکارند لاجے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ردریش قتل کے معاملہ میں ان کے پاس پختہ ثبوت موجود ہیں۔ فوری طور پر پولیس شوبھا کو وہ ثبوت پیش کرنے کی ہدایت جاری کرے ،اگر وہ ثبوت پیش نہ کرپائیں تو انہیں سمن جاری کیا جائے ، اس کے باوجود بھی اگر انہوں نے ثبوت پیش نہیں کیا تو انہیں گرفتار کرکے پوچھ تاچھ کی جائے۔ دنیش گنڈو راؤ نے کہاکہ بی جے پی کو اس ملک کی ترقی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، حساس معاملات کو اچھال کر ہی وہ ملک کے عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ اچھے دن کے وعدے کرکے مودی نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا اور کالادھن ملک میں واپس لاکر ہر شہری کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے جمع کرانے کا وعدہ کیا، لیکن ڈھائی سال گزرجانے کے بعد اب لوگوں کو مودی کو کامیاب بنانے کی غلطیوں کا احساس ہورہا ہے۔ اسی لئے بی جے پی ملک کی مختلف ریاستوں میں آنے والے انتخابات کو مدنظر رکھ کر فرقہ وارانہ ماحول کو مکدرکرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ دنیش نے کہاکہ ردریش موت پر سب کو افسوس ہونا چاہئے، فوری طور پر ریاستی حکومت حرکت میں آئی اور ردریش کے قاتلوں کو گرفتار کرلیا۔ بی جے پی کو چاہئے تھاکہ اس کیلئے ریاستی حکومت کو مبارکباد دیتی، ایسا کرنے کی بجائے وہ ریاست کے ایک سیکولر سیاسی قائد جناب روشن بیگ پر کیچڑ اچھال رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ فرقہ پرستوں کے خلاف صف آرا ہونے والے قائدین میں جناب روشن بیگ کا نام سر فہرست رہا ہے۔ ایسے رہنما پر ایک معمولی کارکن کے قتل کا الزام لگانا شوبھا کارند لاجے کو زیب نہیں دیتا ۔ دینش گنڈو راؤ نے چیلنج کیا کہ وہ جناب روشن بیگ کے خلاف ثبوت منظر عام پر لائیں یا پھر سرگرم سیاسی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ انہوں نے ریاستی بی جے پی قیادت کو آواز دی کہ اب بھی وہ شوبھا کو تاکید کرے کہ وہ راہ راست پر آجائیں ورنہ آنے والے دنوں میں مشکلیں اور بڑھ سکتی ہیں۔ دنیش نے کہاکہ شیواجی نگر حلقہ میں روشن بیگ کی مقبولیت اس قدر بے پناہ ہے کہ اس حلقہ سے ان کے انتخاب میں کامیاب ہونے کی فکر نہ کانگریس کو ہے اور نہ روشن بیگ کو، اسی لئے بی جے پی کی جانب سے شیواجی نگر حلقہ میں ہندو مسلم منافرت پھیلانے کی کوششوں کے بارے میں عوام میں آگاہی ضروری ہے۔
رکن کونسل وی ایس اگرپا نے اس موقع پر جناب روشن بیگ پر شوبھا کے الزامات کاتذکرہ کرتے ہوئے مختلف قانونی دفعات کا حوالہ دیا اور ریاست کے ایک سینئر قائد کو بدنام کرنے بی جے پی کی کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اگرپا نے کہاکہ شوبھا نے دعویٰ کیا ہے کہ ردریش قتل معاملہ میں کچھ پختہ ثبوت انہیں ملے ہیں۔ شوبھا کو چاہئے کہ فوری طور پر وہ ثبوت پولیس کے حوالے کردیں۔ اگرپا نے کہاکہ تعذیرات ہند کی دفعہ 201 اور202کے تحت شوبھا کے پاس اگر جرائم سے جڑے کسی معاملہ کے ثبوت موجود ہوں تو انہیں 24 گھنٹوں کے اندر متعلقہ پولیس حکام یا پولیس تھانہ کے سپرد کردینا چاہئے ، لیکن شوبھا نے ایسا کرنے کی بجائے روشن بیگ پر الزامات لگاکر ایک بااصول اور سیکولرشخصیت کو بدنام کرکے اپنی روٹیاں سیکنے کی کوشش کی ہے ۔اگرپا نے شہر کے پولیس کمشنر سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر وہ شوبھا سے ردریش قتل معاملہ میں ان کے پاس موجود ثبوت طلب کریں اور ثبوت پیش کرنے کیلئے انہیں 12 ؍گھنٹوں کی مہلت دی جائے ، اگر انہوں نے ثبوت پیش نہیں کیا تو ان کے خلاف تعذیرات ہند کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ شوبھا کو شروع سے ہی ایک شرپسند سیاستدان قرار دیتے ہوئے اگرپا نے کہاکہ شوبھا کا کردار اور روشن بیگ کی فطرت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ روشن بیگ جدوجہد کے پس منظر میں سیاست دان بنے ہیں، جبکہ شوبھا کاماضی متنازعہ رہا ہے ، چاہے وہ سابق وزیراعلیٰ یڈیورپا کی بیوی کی مشتبہ حالات میں موت کا معاملہ ہو یا پھر اڈپی کے سابق رکن اسمبلی رگھوپتی بھٹ کی بیوی کی خود کشی کا معاملہ۔انہوں نے کہا کہ شوبھا کے منہ لگنا وہ اپنے آپ کی توہین سمجھتے ہیں ، اسی لئے شوبھا جیسوں کے بارے میں جتنا کم بولا جائے اتنا ہی اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 24گھنٹوں کے اندر شوبھا کو ردریش کے قتل کی سچائی عوام کے سامنے لانی چاہئے ورنہ شوبھا کے خلاف قتل کے ثبوت کو دانستہ طور پر چھپانے کا معاملہ درج کیا جائے۔ انہوں نے ریاستی بی جے پی قائدین سے بھی مطالبہ کیا کہ شوبھا کے خلاف تادیبی کارروائی کریں،اور اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے روکیں۔ بی جے پی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اگرپا نے کہاکہ عوام کو اچھے دن کے وعدے کرکے بی جے پی نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا ،لیکن اب عوام حکومت کی نااہلی سے نالاں ہیں۔ بی جے پی پر ملک کی جمہوریت کو ختم کرنے کی کوششوں کا الزام لگاتے ہوئے اگرپا نے کہاکہ پہلے اس حکومت نے عدلیہ کو نشانہ بنایا اور ججوں کے تقرر میں لاپرواہی برتی۔ تو دوسری طرف ملک کے نامور سیاست دانوں کو بدنام کرنے کا حربہ اپنایا ہے ، ساتھ ہی عوام میں دہشت پیدا کرنے کیلئے وہ وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ اور کانگریس نائب صدر راہول گاندھی کو گرفتار کررہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ حکومت پچھلے 65 سال سے اس ملک میں آزاد میڈیا کا گلا گھونٹنے کی کوشش کررہی ہے۔این ڈی ٹی وی کا معاملہ حکومت کی نیت کا عکا س ہے۔ انہوں نے کہاکہ اترپردیش اور پنجاب کے اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھ کر بی جے پی اس طرح کی حرکتوں پر اتر آئی ہے، لیکن اس کے باوجود بی جے پی ان انتخابات میں کامیاب نہیں ہوپائے گی۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس نے ہمیشہ سے ملک کے تمام شہریوں کو ایک ماں کے بچوں کی طرح دیکھا ہے۔ بھائی چارگی کو پروان چڑھایا ہے۔ لیکن بی جے پی ملک میں بھائی چارگی کے تانے بانے کو توڑنے پر اڑی ہوئی ہے۔
ایچ ایم ریونا:سابق ریاستی وزیر اور رکن کونسل ایچ ایم ریونا نے اس موقع پر جناب روشن بیگ کے خلاف شوبھا کے الزامات پر اپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ شوبھانے جس نیچ سطح کے الزامات لگاکر روشن بیگ پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی ہے وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس کارکن ردریش کی موت کا افسوس کانگریس کو بھی ہے۔ شہر کی پولیس نے انتہائی دیانتداری سے کام کرتے ہوئے ردریش کے قاتلوں کو کافی تیزی سے گرفتار کرلیا ، اس کے فوراً بعد شوبھا نے معاملے کو سیاسی رخ دیتے ہوئے روشن بیگ پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی ہے۔ریونا نے کہا کہ روشن بیگ سے ان کی دوستی طالب علمی کے زمانے سے ہے۔ روشن بیگ کی فطرت سے وہ بخوبی واقف ہیں۔اپنی سیاسی بقا کیلئے وہ کسی کی جان لینے کی گھناؤنی حرکت کبھی نہیں کریں گے۔ ہمیشہ سے انہوں نے سیکولرزم اور مذہبی رواداری کو پروان چڑھایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں کسی بھی مقام پر فرقہ وارانہ ماحول میں بگاڑ پیدا ہوتو فوری طور پر روشن بیگ متحرک ہوتے ہیں اور ارباب اقتدار سے پرزور نمائندگی کرتے ہیں کہ حالات کو قابو میں کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ روشن بیگ کی کوششوں سے ریاست بالخصوص بنگلور میں بنیاد پرستانہ خیالات کا پرچار کرنے والی سیاسی جماعت ایم آئی ایم کے قائدین اویسی برادران کو داخل ہونے سے روکا گیا، تاکہ سماج میں بدامنی اور انتشار نہ پھیلے۔ ایسے لیڈر پر شوبھا کا الزام بے ہودہ ہے۔انہوں نے بھی شوبھا سے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے پاس اس معاملے میں کوئی ثبوت ہیں تو وہ پولیس حکام کے حوالے کریں ورنہ اپنی اس حرکت کیلئے معافی مانگیں۔انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ شوبھا اگر ثبوت دینے میں ناکام رہیں تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ بی جے پی عوام میں جھوٹی خبریں پھیلا کر سیاسی الو سیدھا کرنے کی دوبارہ کوئی کوشش نہ کرپائے۔
آر وی وینکٹیش:ریاستی لیجسلیٹیو کونسل کے چیف وہپ آر وی وینکٹیش نے جناب روشن بیگ کو حلقہ کے ہی نہیں ،بلکہ ریاست کے تمام طبقات میں ایک مقبول سیاسی قائد قرار دیتے ہوئے کہاکہ شوبھا نے اپنے جھوٹے الزامات لگاکر روشن بیگ پر کیچڑ اچھالا ہے۔ اس معاملے میں اگر شوبھا کے پاس ذرا سی بھی سچائی ہوتی تو وہ یہ ثبوت پولیس کے حوالے کرتیں نہ کہ ہٹ اینڈ رن کی طرح کیچڑ اچھال کر راہ فرار اختیار کرتیں۔ انہوں نے کہاکہ سماج میں نفرت پھیلانے کے علاوہ بی جے پی کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ ریاست کی سدرامیا حکومت عوام کی فلاح وبہبود کیلئے جو قدم اٹھا رہی ہے وہ بی جے پی کو برداشت نہیں ہے۔ اسی لئے حکومت کو بدنام کرنے کیلئے جذباتی معاملات اچھال رہی ہے خواہ وہ ردریش کے قتل کا معاملہ ہو یا ٹیپو سلطان جینتی کا۔ پانچ سال تک ریاست میں اقتدار پر رہ کر کرپشن کے ریکارڈ توڑنے کے بعد بی جے پی ایک ترقی پرور اور عوامی فلاح کی فکر مند کانگریس کو برداشت نہیں کررہی ہے اور دوبارہ عوام کو لوٹنے کیلئے اقتدار کے خواب دیکھ رہی ہے جو کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔ اس احتجاج کی صدارت بنگلور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر جی شیکھر نے کی۔احتجاج میں بی بی ایم پی ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی کے چیرمین ایم کے گنا شیکھر، کارپوریٹرس شکیل احمد، وسنت کمار، محمد ضمیر شاہ، سمپت راج ، بی بی ایم پی اپیل کمیٹی کی چیر پرسن سیما الطاف خان ، کانگریس لیڈر بی کے الطاف خان ،سابق رکن اسمبلی پرسنا کمار اور دیگر متعدد کانگریس قائدین اور بڑی تعداد میں کانگریس کارکنوں نے شرکت کی۔احتجاجی جلسہ کیلئے معقول پولیس بندوبست کیا گیا تھا۔احتجاجیوں نے شوبھا کا ایک پتلا نذر آتش کرکے اپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا۔ احتجاج گاہ تک پہنچنے کیلئے مختلف مقامات سے بائیک ریلیاں بھی نکالی گئیں ۔
جی اے باوا:سابق ڈی سی پی اور کے پی سی سی سکریٹری جی اے باوا نے احتجاجی جلسہ سے مخاطب ہوکر جناب روشن بیگ کی کردار کشی کرنے شوبھا کی کوشش کو قابل مذمت قرار دیا اور کہاکہ ایسے مرحلہ میں جبکہ پولیس ردریش کے قتل کی صحیح سمت میں جانچ کرنے میں مصروف ہے، شوبھا نے اس طرح کا بیان دے کر پولیس کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شوبھا کے پاس اگر ان کے الزامات کے ثبوت ہیں تو بلاتاخیر پولیس کے حوالے کریں ،ورنہ اس سلسلے میں قانونی کارروائی کا سامنا کریں۔